ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک حجاب کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچا، دائر کی گئی عرضی ، سی جے آئی کی زیرقیادت بینچ کے سامنے سینئر وکیل کپل سبل نے کیا جلد سماعت کا مطالبہ

کرناٹک حجاب کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچا، دائر کی گئی عرضی ، سی جے آئی کی زیرقیادت بینچ کے سامنے سینئر وکیل کپل سبل نے کیا جلد سماعت کا مطالبہ

Thu, 10 Feb 2022 15:13:24    S.O. News Service

نئی دہلی 10 فروری (ایس او نیوز)    کرناٹک کا حجاب معاملہ آج  سپریم کورٹ  بھی پہنچ گیا ہے اور اس معاملے میں سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی گئی ہے۔ سینئر وکیل کپل سبل نے چیف جسٹس آف انڈیا ( سی جے آئی)  کی زیرقیادت بنچ کے سامنے جلد سماعت کا مطالبہ کیا ہے۔ سبل نے کہا، 'یہ نو ججوں کی آئینی بنچ کا معاملہ ہے، سپریم کورٹ کو اس معاملے کی جلد سماعت کرنی چاہیے۔ چاہے کوئی حکم جاری نہ ہو، لیکن معاملے کی جلد سماعت کے لیے فہرست بنائیں۔انہوں نے بتایا کہ اسکول، کالج بند ہیں، ایسے میں ہائی کورٹ کو بھی  سنوائی کرنے دیں ۔

اس پر چیف جسٹس (سی جے آئی)  این وی رمنا نے کہا کہ  کرناٹک ہائی کورٹ اس معاملے کی سماعت کر رہی ہے، سماعت آج بھی ہونی ہے، اس لئے  پہلے ہائی کورٹ کو فیصلہ کرنے دیں، اس معاملے میں ابھی کوئی جلدی نہیں ہے۔ اگر ہم معاملہ سنیں گے تو ہائی کورٹ سنوائی  نہیں  کرے گا۔ فی الحال سپریم کورٹ نے حجاب کیس میں کوئی تاریخ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ابھی ہم معاملے میں کیوں کودیں، پہلے ہائی کورٹ کو  فیصلہ کرنے دیں۔ اُدھر  اڈپی کی طالبہ فاطمہ بشریٰ نے بھی سپریم کورٹ میں عرضی  داخل کی ہے جس میں  کرناٹک حکومت کے 5 فروری کو حکم غیر قانونی قرار دیا ہے  اور اُس حکم کو  مساوات، آزادی  اور مذہبی آزادی  کی بنیادی حقوق  کے  برعکس قرار دیتے  ہوئے اس کی منسوخی کی درخواست کی گئی ہے۔  حجاب کو لے کر تنازع کے درمیان کرناٹک حکومت نے اپنے حکم میں تعلیمی اداروں سے کہا ہے کہ وہ لباس کے موجودہ اصولوں پر عمل کرے جب تک کہ ہائی کورٹ اس معاملے میں کوئی حکم جاری نہیں کرتا ۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ حجاب تنازع پر کرناٹک ہائی کورٹ میں بدھ کو بھی سماعت ہوئی تھی، لیکن ہائی کورٹ نے اس معاملے کو  توسیعی  بینچ میں سننے کی سفارش کی تھی۔ توسیعی بینچ  اب اس معاملے پر غور کرے گا کہ کیا اسکول ۔ کالج کسی  مسلم لڑکی کو حجاب  پہن کر آنے سے روک سکتے ہیں یا نہیں ؟ اس کو لے کر  آئینی اور بنیادی حقوق سے جُڑے  تمام مسائل پر بھی ہائی کورٹ کی توسیعی بینچ غور کرے گا۔

کلاس رومز میں حجاب کے خلاف  کچھ عرضیوں  پر سنوائی کررہے   جسٹس کرشنا ایس ڈکشت نے کہا تھا کہ پرسنل لاء کے کچھ پہلو وں کے مدنظر یہ معاملے بنیادی  اہمیت کے کچھ آئینی سوالوں کو اُٹھاتے ہیں۔ جسٹس دکشت نے کہا تھا کہ ایسے مدعے جن پر بحث ہوئی  اس کے ساتھ    دیگر اہم سوالوں کی وسعت کو دیکھتے ہوئے عدالت کا موقف یہ ہے کہ اس معاملے   پر   چیف جسٹس  فیصلہ کریں  کہ  اس معاملے میں ایک توسیعی بینچ  تشکیل دی جائے۔


Share: